اسلام آباد،18/جون (آئی این ایس انڈیا) اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے برطانیہ میں قتل ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرموں کو عمر قید کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس قتل کا منصوبہ پاکستان اور برطانیہ میں بنا جس کے اصل کردار متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین تھے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے جمعرات کو 21 مئی کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔فیصلے کے مطابق عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی مجرم قرار پائے ہیں جنہیں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔عدالت نے ملزمان کو عمران فاروق کے اہل خانہ کو دس، دس لاکھ روپے ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش پاکستان اور برطانیہ میں تیار ہوئی اور الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین اس سازش کے اصل کردار تھے۔عدالت نے الطاف حسین اور ان کے قریبی عزیز افتخار حسین سمیت اشتہاری ملزمان محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔انتالیس صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں عمران فاروق قتل کیس کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش پاکستان اور برطانیہ میں تیار ہوئی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین اس سازش کے اصل کردار تھے۔ عدالت نے الطاف حسین کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے اور اْن کی جائیداد ضبط کرنے کے بھی احکامات دیے ہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت اْمید کرتی ہے کہ پاکستانی اور برطانوی حکام مفرور ملزمان کو ڈھونڈ کر جلد عدالت میں پیش کریں گی۔عدالتی فیصلے کے مطابق عمران فاروق کے قتل کا حکم الطاف حسین نے دیا۔ ایم کیو ایم لندن کے دو سینئر رہنماؤں محمد انور اور افتخار حسین نے الطاف حسین کا پیغام پاکستان پہنچایا۔ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے معظم علی نے قتل کے لیے لڑکوں کا انتخاب کیا۔ عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے محسن علی اور کاشف کامران کو چنا گیا۔ دونوں کو برطانیہ لے جا کر قتل کرانے کے لیے بھرپور مدد کی گئی۔انسداد دہشت گردی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ قتل منصوبہ بندی سے کیا گیا تھا تاکہ آئندہ کوئی بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے۔عدالت کا کہنا تھا کہ مجرموں نے پاکستان کا نام پوری دنیا میں بدنام کیا، لہذٰا وہ مثالی سزا کے مستحق ہیں۔اس کیس میں برطانیہ نے بھی شواہد فراہم کیے اور وڈیو لنک پر مقتول کی اہلیہ سمیت برطانوی گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ کیس کے برطانوی چیف تفتیشی اہلکار نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ برطانیہ نے پاکستانی حکومت کو جرم ثابت ہونے کے باوجود ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی پر شواہد فراہم کیے اور کیس میں تعاون کیا تھا۔